صارفین اپنے بینک اکاؤنٹ کی معلومات اور ون ٹائم پاسورڈ (او ٹی پی) کسی سے شیئر نہ کریں۔

Image may contain: text
Image may contain: text

سائبر سکیورٹی کے متعلق آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کے موبائل کیش اکاؤنٹ سے فراڈ کے ذریعے پیسے نکالنے کی وارداتوں میں دن بدن اضافہ ہونے لگا ہے۔ جرائم پیشہ افراد کے جانسے میں آ کر معصوم شہری اپنی خون پسینے کی کمائی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔جرائم پیشہ افراد صارفین کو جعلی میسج بھیجتے ہیں جس میں رقم کی تفصیلات درج ہوتی ہیں اور اس کے بعد صارفین کو کال کر کے کہتے ہیں کہ آپ کے اکاؤنٹ میں غلطی سے پیسے ٹرانسفر ہو گئے ہیں براہ مہربانی ہماری مدد کریں اورصارفین کو ایس ایم ایس میں آنے والا کوڈ بتانے کے لیے زور دیا جاتا ہے۔اکثر صارفین ان کے جانسے میں آ کر کوڈ بتا دیتے ہیں جس کو استعمال میں لاتے ہوئے ان کے اکاؤنٹ سے پیسے نکال لیے جاتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار سائبر سکیورٹی آف پاکستان کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر محمد اسد الرحمن نے لوگوں کے موبائل کیش اکاؤنٹ سے پیسے نکالنے والے جرائم پیشہ افراد کا طریقہ واردات بتاتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ جرائم پیشہ افراد صارفین کوکال کر کے خود کو ایزی پیسہ یا جاز کیش کمپنی کا نمائندہ ظاہر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ کا اکاؤنٹ بلاک کر دیا گیا ہے اگر آپ اپنا اکاؤنٹ دوبارہ ایکٹو کروانا چاہتے ہیں تو ایس ایم ایس میں آنے والا کوڈ سینڈ کریں تا کہ آپ کا اکاؤنٹ ایکٹو کر دیا جائے۔ صارفین جیسے ہی کوڈ شیئر کرتے ہیں ان کے اکاؤنٹ سے پیسے نکال لیے جاتے ہیں۔ انہوں نے صارفین کو تلقین کی کہ کمپنی کا نمائندہ کبھی بھی آپ کو کال کر کے تفصیلات نہیں پوچھے گا لہذا صارفین اپنی ذاتی معلومات، پاسورڈاور ون ٹائم پاسورڈ (او ٹی پی) کسی سے شیئر نہ کریں۔انہوں جرائم پیشہ افراد کا طریقہ واردات بتاتے ہوئے مزید کہا کہ انعامی سکیم کی قراعہ اندازی میں نام آ جانے کا لالچ دے کر بھی صارفین کی ذاتی معلومات، پاسورڈ اور او ٹی پی حاصل کر کے ان کے اکاؤنٹس سے پیسے نکال لیے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صارفین ایسے فراڈ فون کالز سے ہوشیار رہیں، اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے اپنی حساس معلومات کسی سے شیئر نہ کریں بلکہ ایسے جرائم پیشہ افراد کی اطلاع متعلقہ اداروں کو کریں تا کہ ان کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لاتے ہوئے مزید صارفین کو ان جرائم پیشہ افراد کے فراڈ سے محفوظ کیا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں